اسلام کی عمارت جن ستونوں پر کھڑی ہے، انہیں “بنیادی عقائد” کہا جاتا ہے۔ عقیدہ کا مطلب ہے “گرہ باندھ لینا” یعنی دل میں کسی بات کا پختہ یقین کر لینا۔ جب تک انسان کا عقیدہ درست نہ ہو، اس کے اعمال کا اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اسلام کے بنیادی عقائد کی تعداد چھ ہے، جنہیں “ایمانِ مفصل” میں بیان کیا گیا ہے۔
آئیے ان عقائد کو تفصیل اور قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
1. اللہ پر ایمان (توحید)
اسلام کا پہلا اور سب سے اہم عقیدہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات، اپنی صفات اور اپنے حقوق میں اکیلا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ“
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہے۔ (سورۃ الاخلاص: 1-4)
حدیثِ نبوی:
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔” (صحیح بخاری، حدیث: 2856)
وضاحت: توحید کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ہر مشکل میں، اپنی ہر عبادت میں اور اپنی ہر دعا میں صرف اور صرف اللہ کو یاد کریں۔ اس کے سوا کسی اور کو مشکل کشا یا حاجت روا سمجھنا شرک ہے، جو کہ اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔
2. فرشتوں پر ایمان
اور ان کے مختلفاللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم کے نافرمان نہیں ہیں اور ہر وقت اس کی تسبیح و عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب ہے کہ ہم مانیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں کام ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“وَكُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ”
ترجمہ: اور سب ہی اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ (سورۃ البقرہ: 285)
وضاحت: اللہ نے کچھ فرشتوں کو مخصوص ذمہ داریاں دی ہیں۔ جیسے حضرت جبرائیل ؑ وحی لانے پر مامور تھے، حضرت میکائیل ؑ رزق اور بارش کے انتظام پر، اور حضرت اسرافیل ؑ قیامت کے دن صور پھونکنے پر۔ ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ فرشتے ہماری نیکیوں اور گناہوں کو بھی لکھ رہے ہیں۔
3. اللہ کی کتابوں پر ایمان
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے وقت بوقت کتابیں اور صحیفے نازل کیے۔ ہم ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ“
ترجمہ: رسول ایمان لائے اس پر جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا، اور مومن بھی (سب ایمان لائے)۔ (سورۃ البقرہ: 285)
اہم کتابیں:
تورات: حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی۔
زبور: حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی۔
انجیل: حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئی۔
قرآن مجید: حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔
وضاحت: مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ پچھلی کتابوں میں وقت کے ساتھ انسانی ہاتھ سے تبدیلی ہو گئی ہے، جبکہ قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور یہ قیامت تک اپنی اصل شکل میں محفوظ رہے گی۔
4. اللہ کے رسولوں پر ایمان
اللہ نے ہدایت کے لیے ہر دور میں اور ہر قوم میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی تھا: “اللہ کی عبادت کرو۔“
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ”
ترجمہ: البتہ تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا۔ (سورۃ الحدید: 25)
نبی کریم ﷺ کے بارے میں ارشاد:
“مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ”
ترجمہ: محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے خاتم (آخری) ہیں۔ (سورۃ الاحزاب: 40)
وضاحت: رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب ہے کہ ہم تمام انبیاء کی عزت کریں اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی مانیں، جن کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
5. آخرت (قیامت) پر ایمان
آخرت کا مطلب ہے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اس دنیا کا ایک دن خاتمہ ہو جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور قیامت کے دن ہی تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران: 185)
وضاحت: آخرت پر ایمان رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم اس دنیا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، کیونکہ ہمیں مرنے کے بعد اپنے ہر چھوٹے بڑے کام کا حساب دینا ہے۔ جو نیک ہوں گے وہ جنت میں جائیں گے اور جو نافرمان ہوں گے وہ جہنم میں۔
6. تقدیر پر ایمان
تقدیر کا مطلب ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ اللہ کے علم اور اس کی مرضی کے مطابق ہے۔ اللہ کو پہلے سے معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ”
ترجمہ: بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (سورۃ القمر: 49)
حدیثِ نبوی:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔” (ترمذی، حدیث: 2144)
وضاحت: تقدیر پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ انسان کو اللہ نے عقل دی ہے تاکہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے اور محنت کرے۔ محنت کرنا انسان کا کام ہے اور اس کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
خلاصہ
اسلام کے یہ چھ بنیادی عقائد ایک مسلمان کی زندگی کی بنیاد ہیں۔ جب تک دل میں ان عقائد کا پختہ یقین نہ ہو، انسان اسلام کے دائرے میں مکمل طور پر داخل نہیں ہو سکتا۔ ان عقائد پر ایمان لانے سے انسان کو دنیا میں سکون ملتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک طاقتور، مہربان اور انصاف کرنے والے اللہ کی حفاظت میں ہے۔
ہماری ذمہ داری:
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں اور گھر والوں کو یہ عقائد شروع ہی سے سکھائیں تاکہ وہ سیدھے راستے پر چل سکیں۔ اللہ ہمیں ان عقائد پر مضبوطی سے قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

