Al Ittiqan fi Uloom al-Quran الاتقان فی العلوم القرآن
الاتقان فی علوم القرآن، جو کہ علامہ جلال الدین سیوطی (م ۸۴۹ھ تا ۹۱۱ھ) کی ایک شاہکار اور بنیادی تصنیف ہے، علومِ قرآنی کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا مانا جاتا ہے۔ علامہ سیوطی نے اس کتاب میں قرآن مجید سے متعلق اَسی (۸۰) انواع کے علوم کو کمال مہارت اور تفصیل کے ساتھ جمع کیا ہے، جس میں نزولِ قرآن، جمع و تدوین، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، اعجازِ قرآن، اور لغاتِ قرآن جیسے اہم مباحث شامل ہیں۔ یہ دراصل ان کی تفسیر “مجمع البحرین” کا ایک مبسوط مقدمہ ہے، جس میں انہوں نے اپنے دور تک کے تمام اہم علماء جیسے زرکشی اور بلقینی کی تحقیقات کو یکجا کر دیا، اور اس طرح فہمِ قرآن، تفسیر، اور علومِ دینیہ میں ایک سند کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اردو زبان میں اس کے متعدد تراجم دستیاب ہیں اور یہ برصغیر کے دینی حلقوں میں تدریس اور تحقیق دونوں کے لیے ایک ناگزیر ماخذ ہے
(Downloads - 24)
Additional information
| Book Writer | Jalal al-Din Abu al-Fadl Abd al-Rahman ibn Abi Bakr al-Suyuti |
|---|---|
| Language | |
| File Size | 28 MB |
Description
جائزہ: الاتقان فی علوم القرآن، جو کہ علامہ جلال الدین سیوطی (م ۸۴۹ھ تا ۹۱۱ھ) کی ایک شاہکار اور بنیادی تصنیف ہے، علومِ قرآنی کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا مانا جاتا ہے۔ علامہ سیوطی نے اس کتاب میں قرآن مجید سے متعلق اَسی (۸۰) انواع کے علوم کو کمال مہارت اور تفصیل کے ساتھ جمع کیا ہے۔ یہ کتاب قرآن کی نزول، جمع و تدوین، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، اعجازِ قرآن، اور لغاتِ قرآن جیسے اہم مباحث کو تفصیل سے پیش کرتی ہے۔ یہ دراصل ان کی تفسیر “مجمع البحرین” کا ایک مبسوط مقدمہ ہے، جس میں انہوں نے اپنے دور تک کے تمام اہم علماء جیسے زرکشی اور بلقینی کی تحقیقات کو یکجا کر دیا، اور اس طرح فہمِ قرآن، تفسیر، اور علومِ دینیہ میں ایک سند کی حیثیت اختیار کر گئی۔
اہم موضوعات: یہ کتاب اردو زبان میں بھی دستیاب ہے اور برصغیر کے دینی حلقوں میں تدریس اور تحقیق دونوں کے لیے ایک ناگزیر ماخذ ہے۔ اس کے بنیادی موضوعات میں قرآن کی تفہیم، اس کی تاریخ، اور مختلف علمی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف علماء اور محققین کے لیے بلکہ عام مسلمانوں کے لیے بھی ایک قیمتی ذریعہ ہے جو قرآن کی گہرائیوں کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
- علماء اور محققین جو قرآن کی تفہیم میں مزید گہرائی چاہتے ہیں۔
- طلباء جو دینی علوم میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
- اسلامی اسکالرز جو قرآن کی تاریخ اور اس کی تفصیلات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
- عام مسلمان جو قرآن کے علوم کو سمجھنے کے لیے ایک جامع ماخذ چاہتے ہیں۔
- تدریسی ادارے جو دینی تعلیم کے نصاب میں اس کتاب کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔





