Khulasa tul-Quran خلاصۃ القرآن
خلاصۃ القرآن- مولانا محمد اسلم شیخوپوری کا ایک مقبول عام تفسیری مجموعہ ہے، جو درحقیقت ان کے پورے قرآن کے پارہ وار دروس کا تحریری روپ ہے۔ مولانا جو کہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے شاگردوں کے شاگرد تھے، نے قرآنی تعلیمات کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کو اپنا مقصد بنایا۔ اس تفسیر کا اسلوب سنجیدہ، بامقصد اور آسان ہے، جو درس نظامی کے علماء کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ ہر پارے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اس میں ایمان کی تجدید اور عملی اصلاح پر زور دیا گیا ہے تاکہ مسلمان دین کی اجتماعیت کے فروغ اور قرآن کے پیغام کو عام کرنے کی ذمہ داری کو سمجھیں
(Downloads - 173)
Additional information
| Book Writer | |
|---|---|
| Language | |
| File Size | 14 MB |
Description
خلاصۃ القرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری کا ایک مقبول عام تفسیری مجموعہ ہے، جو درحقیقت ان کے پورے قرآن کے پارہ وار دروس کا تحریری روپ ہے۔ مولانا جو کہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے شاگردوں کے شاگرد تھے، نے قرآنی تعلیمات کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کو اپنا مقصد بنایا۔ اس تفسیر کا اسلوب سنجیدہ، بامقصد اور آسان ہے، جو درس نظامی کے علماء کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ ہر پارے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اس میں ایمان کی تجدید اور عملی اصلاح پر زور دیا گیا ہے تاکہ مسلمان دین کی اجتماعیت کے فروغ اور قرآن کے پیغام کو عام کرنے کی ذمہ داری کو سمجھیں۔
کتاب کا مقصد اس تفسیر میں قرآن کی تعلیمات کو نہ صرف سمجھانا ہے بلکہ ان پر عمل کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی یہ کوشش ہے کہ ہر مسلمان قرآن کی روشنی میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ یہ تفسیر روحانی، اخلاقی اور عملی اصلاحات کی راہنمائی فراہم کرتی ہے، جس سے مسلمانوں کو دین کی سچائیوں کا ادراک ہوتا ہے اور وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔
- طلبہ اور علماء کے لیے: درس نظامی کے طلبہ اور علماء کے لیے مفید رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
- عوام الناس کے لیے: عام لوگوں کے لیے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔
- روحانی ترقی: ایمان کی تجدید اور روحانی اصلاح کی راہنمائی کرتی ہے۔
- عملی زندگی میں رہنمائی: روزمرہ کی زندگی میں قرآن کے پیغام کو اپنانے کی ترغیب دیتی ہے۔
- اجتماعی دین کی فروغ: مسلمانوں کو دین کی اجتماعیت کے فروغ کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔





