Tareekh Nadwatul Ulama تاریخ ندوۃالعلماء

دارالعلوم ندوۃ العلماء بھارت کے شہر لکھنؤ میں واقع ایک معتبر اسلامی یونیورسٹی ہے۔ اس کا قیام 26 ستمبر 1898 کو ندوۃ العلماء (جو کہ مسلمان علماء کی ایک کونسل تھی) کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔

یہ تعلیمی ادارہ دنیا بھر سے بڑی تعداد میں مسلم طلباء کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ ندوۃ العلماء علماء اور طلباء کی ایک متنوع رینج کی پرورش کرتا ہے جس میں حنفی، شافعی اور اہل حدیث جیسے مکاتبِ فکر شامل ہیں۔ مزید برآں، یہ خطے کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جو اسلامی علوم کی تدریس مکمل طور پر عربی زبان میں کرتا ہے۔

اس کی تاریخ پر مشتمل کتاب دو جلدوں میں لکھی گئی ہے؛ پہلی جلد مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی نے اور دوسری جلد مولانا شمس تبریز خان نے تحریر کی ہے۔ یہ دونوں کتب یونیورسٹی کے قیام کے تاریخی پس منظر اور وقت کے ساتھ اس کی ارتقائی ترقی کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ ندوۃ العلماء کا قیام اس مقصد کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ اختلافاتِ عقائد کے باوجود تمام اسلامی فرقوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے

somdn_product_pageyes here

(Downloads - 216)

Available Downloads

Please select at least 1 checkbox

Additional information

Book Writer

,

Language

File Size

34 MB

Description

تعارف

تاریخ ندوۃ العلماء، ایک جامع کتاب ہے جو دارالعلوم ندوۃ العلماء کی تاریخی اور تعلیمی ترقی کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں میں تحریر کی گئی ہے، جس کی پہلی جلد مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی نے لکھی ہے جبکہ دوسری جلد مولانا شمس تبریز خان کی تخلیق ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ندوۃ العلماء کے قیام کی تاریخ کو بیان کرتی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور مختلف مکاتب فکر کی تفہیم میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ندوۃ العلماء کا قیام 26 ستمبر 1898 کو ہوا، اور یہ مسلمانوں کی ایک معتبر علمی کونسل کے ذریعے عمل میں آیا، جس کا مقصد مختلف اسلامی فرقوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا۔

اہم موضوعات

کتاب میں ندوۃ العلماء کی تعلیمی نظام، اس کی روایات، اور اس کے مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف حنفی، شافعی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے طلباء کو اپنی طرف راغب کرتا ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے مسلم طلباء کے لئے ایک تعلیمی مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ندوۃ العلماء اسلامی علوم کی تدریس عربی زبان میں کرتا ہے، جو کہ اس کی منفرد خصوصیت ہے۔

  • اسلامی تاریخ و ثقافت کے طلباء کے لئے ایک اہم ماخذ
  • علماء اور محققین کے لئے ندوۃ العلماء کی تاریخ کا تفصیلی جائزہ
  • مسلم طلباء کے لئے اسلامی تعلیمات کی مختلف جہتوں کی تفہیم
  • تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لئے ایک مثالی نمونہ
  • اسلامی مکاتب فکر کے مابین ہم آہنگی کے فروغ میں معاونت