Dunya Kay Uus Paar دنیا کے اس پار

دنیا کے اس پار مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا ایک مختصر مگر نہایت اہم رسالہ ہے۔ یہ دراصل ایک مضمون تھا جو مئی ۱۹۹۶ء میں روزنامہ جنگ میں تین قسطوں میں شائع ہوا، جسے بعد میں کتابی شکل دی گئی۔ اس کتابچے کا مرکزی موضوع “دنیا کے اس پار” یعنی موت کے بعد کی زندگی اور احوال ہیں۔ مفتی صاحب نے اس میں سائنس اور جدید تحقیقات (خصوصاً ان مریضوں کے تجربات جو موت کی دہلیز سے واپس آئے) کا خلاصہ پیش کیا ہے، اور پھر ان مشاہدات کی اسلامی تعلیمات اور قرآن و حدیث کی روشنی میں علمی اور تفصیلی وضاحت فرمائی ہے۔ یہ رسالہ آخرت کی فکر پیدا کرنے اور موت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کاوش ہے

Category:
somdn_product_page

(Downloads - 56)

Additional information

Book Writer

Language

File Size

2 MB

Description

تفصیل: دنیا کے اس پار مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا ایک مختصر مگر نہایت اہم رسالہ ہے جو موت کے بعد کی زندگی اور اس کے احوال پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک مضمون ہے جو مئی ۱۹۹۶ء میں روزنامہ جنگ میں تین قسطوں میں شائع ہوا، اور بعد میں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔ مفتی صاحب نے اس میں جدید سائنس اور تحقیقات، خاص طور پر ان مریضوں کے تجربات کو پیش کیا ہے جو موت کی دہلیز سے واپس آئے، اور ان مشاہدات کی اسلامی تعلیمات اور قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی وضاحت کی ہے۔ یہ رسالہ آخرت کی فکر پیدا کرنے اور موت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کاوش ہے۔

اہم موضوعات: یہ کتاب نہ صرف موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے، بلکہ اس میں اسلامی نقطہ نظر سے بھی رہنمائی کی گئی ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس رسالے میں درج ذیل اہم نکات پر توجہ دی ہے:

  • موت کی حقیقت اور اس کا اسلامی تصور
  • سائنس اور جدید تحقیقات کے ذریعے موت کے تجربات کی وضاحت
  • آخرت کی زندگی کے مختلف مراحل کی تفصیل
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں موت اور آخرت کے موضوعات
  • زندگی کی عارضیت اور آخرت کی اہمیت پر غور و فکر

کتاب سے فائدہ اٹھانے والے:

  • جو لوگ موت اور آخرت کے موضوعات پر غور کرنے کے خواہاں ہیں
  • طلباء اور محققین جو اسلامی تعلیمات کی گہرائی میں جانا چاہتے ہیں
  • موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سائنسی اور اسلامی نقطہ نظر کو سمجھنے والے افراد
  • جو لوگ اپنی زندگی کی عارضیت اور آخرت کی حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں
  • مذہبی رہنماؤں اور علماء جو اپنے خطبات میں اس موضوع کو شامل کرنا چاہتے ہیں