Fath al-Qadeer فتح القدير
يُعدّ “فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية من علم التفسير” للإمام محمد بن علي الشوكاني (ت 1250هـ) من التفاسير الجامعة والفريدة في بابه. يتميز التفسير بـجمعه بين التفسير بالمأثور (الرواية) الذي يعتمد على الأحاديث والآثار، والتفسير بالرأي (الدراية) الذي يعتمد على اللغة والاجتهاد. وقد عُرف الشوكاني بـاستقلاله الفكري ونقدِه لأقوال الفقهاء والمفسرين دون تعصب لمذهب معين، مع تركيزه الشديد على الجانب الفقهي من الآيات وإيراد الأدلة الحديثية بقوة. وهو بذلك يُعتبر مرجعاً مهماً للمشتغلين بالفقه والأصول، ويمثل مدرسة في الاجتهاد السلفي في التفسير.
(Downloads - 16)
Additional information
| Book Writer | |
|---|---|
| Language | |
| File Size | 40 MB |
Description
نظرة عامة
“فتح القدير” امام محمد بن علی الشوكانی (ت 1250ھ) کی ایک اہم تفسیر ہے جو علم تفسیر کے میدان میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ تفسیر اپنی جامعیت اور گہرائی کی بنا پر مشہور ہے، کیونکہ یہ نہ صرف روایتی تفاسیر کا احاطہ کرتی ہے بلکہ فکری اجتہاد بھی پیش کرتی ہے۔ امام الشوکانی نے اس تفسیر میں قرآن کی آیات کی تفہیم کے لیے دونوں طریقوں کا استعمال کیا ہے: تفسیر بالمأثور جو احادیث اور آثار پر مبنی ہے، اور تفسیر بالرائے جو زبان اور اجتہاد پر مبنی ہے۔ ان کا یہ انداز فکر ان کی آزاد سوچ اور مختلف فقہی آراء پر تنقید کی قابلیت کی عکاسی کرتا ہے، جس سے یہ کتاب علمی دنیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
اہم موضوعات
امام الشوکانی کی “فتح القدیر” میں کئی اہم موضوعات شامل ہیں جن میں فقہی مسائل کی وضاحت اور آیات کے سیاق و سباق کا گہرائی سے تجزیہ شامل ہے۔ اس تفسیر میں آیات کی فقہی تشریحات کو واضح کرنے کے لئے مضبوط دلائل فراہم کیے گئے ہیں، جس سے قاری کو اسلامی فقہ کی بنیادیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ تفسیر علم تفسیر میں ایک مکتب فکر کی نمائندگی کرتی ہے جو سلفی اجتہاد کی بنیاد پر قائم ہے، اور اس کی بنیاد پر قاری کو اپنے فہم میں وسعت حاصل ہوتی ہے۔
- فقہاء اور علمائے دین کے لئے ایک اہم ریفرنس
- طلباء علم کے لئے تفسیر کے مختلف طریقوں کی تفہیم
- محققین و محققین کے لئے ایک جامع تحقیقاتی ماخذ
- عمومی قارئین کے لئے قرآن کی آیات کی گہرائی میں جانے کا موقع
- اجتہاد میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک تحریک







