اسلام اور جدت پسندی۔مفتی محمد تقی عثمانی

کتاب “اسلام اور جدت پسندی” عالمِ اسلام کے نامور فقیہ اور مفکر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی ایک معرکہ الآرا تصنیف ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب نے مغرب کی لادینی جدیدیت  اور اسلام کے ابدی اصولوں کے درمیان فرق کو دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ یہ کتاب جدید ذہن میں اٹھنے والے شبہات کا عقلی، علمی اور شرعی جواب فراہم کرتی ہے

Category:
somdn_product_page

(Downloads - 2)

Additional information

Book Writer

Language

File Size

2.9 MB

Description

کتاب “اسلام اور جدت پسندی” (انگریزی ترجمہ: Islam and Modernism) عالمِ اسلام کے نامور فقیہ اور مفکر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی ایک معرکہ الآرا تصنیف ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب نے مغرب کی لادینی جدیدیت (Modernism) اور اسلام کے ابدی اصولوں کے درمیان فرق کو دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ یہ کتاب جدید ذہن میں اٹھنے والے شبہات کا عقلی، علمی اور شرعی جواب فراہم کرتی ہے۔

مصنف کا مختصر تعارف

مفتی محمد تقی عثمانی پاکستان کے سابق جج، دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم، اور بین الاقوامی اسلامی فقه اکیڈمی کے نائب صدر ہیں۔ آپ نے جدید معاشی و اجتماعی مسائل پر بیسیوں کتابیں تحریر کی ہیں، اور آپ کی تحاریر کو دنیا بھر کے دینی و عصری حلقوں میں یکساں احترام حاصل ہے۔

کتاب کا مرکزی خیال اور بنیادی موضوعات

کتاب میں مفتی صاحب نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اسلام سائنس، ٹیکنالوجی، معاشی ترقی اور تسخیرِ کائنات کا مخالف نہیں، بلکہ اس کا داعی ہے۔ اصل مسئلہ دینی احکام کو “دورِ حاضر کے تقاضوں” کے نام پر بدلنے اور مغرب کی اندھی تقلید کا ہے۔

کتاب کے اہم ترین موضوعات درج ذیل ہیں:

  • جدت پسندی کا درست اور غلط مفہوم: اسلام کن شعبوں میں جدت کا خیرمقدم کرتا ہے اور کہاں غیر متغیر حدود قائم کرتا ہے۔
  • اسلام اور صنعتی انقلاب: سائنسی دریافتوں اور صنعتی ترقی کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر۔
  • اجتہاد اور تحریفِ دین: اجتہاد کے صحیح ضوابط، اور “جدید تعبیر” کے نام پر دینی احکام کو مسخ کرنے کی کوششوں کا رد۔
  • علماء اور پاپائیت: مسلمانوں کے علماء اور عیسائیت کی پاپائیت (Papacy) کے درمیان بنیادی فرق کا بیان۔
  • اسلام اور مغرب کا فکری تصادم: تسخیرِ کائنات کے متعلق اسلامی نظریہ اور مغربی مادیت کا موازنہ۔

اس کتاب کی اہمیت اور فوائد

  • جدید شبہات کا ازالہ: یہ کتاب جدید تعلیم یافتہ طبقے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں دین و جدیدیت کے حوالے سے پیدا ہونے والے الجھاؤ کو ختم کرتی ہے۔
  • محققانہ انداز: جذباتی گفتگو کے بجائے مکمل منطق، سائنسی و تاریخی حقائق اور شرعی دلائل کا استعمال کیا گیا ہے۔
  • سادہ و دلنشین زبان: مشکل فکری و فلسفیانہ موضوعات کو نہایت آسان اور عام فہم اردو میں بیان کیا گیا ہے۔