Uloom al-Quran علوم القرآن-مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب “علوم القرآن” دراصل ان کے والد مفتی محمد شفیع کی تفسیر “معارف القرآن” کے مقدمہ کی تفصیلی و تشریحی صورت ہے۔ یہ کتاب علومِ قرآنی کے اہم موضوعات پر ایک مستند اور محققانہ بحث پیش کرتی ہے۔ اس میں وحی، تاریخ نزولِ قرآن، حفاظتِ قرآن، قراءاتِ سبعہ، اور اعجازِ قرآن جیسے مباحث شامل ہیں، جو قارئین کی گہری بصیرت کا باعث بنتے ہیں۔ کتاب مستشرقین کے اعتراضات اور قرآنی حقائق پر اٹھائے گئے شکوک و شبہات کا شافی جواب بھی فراہم کرتی ہے۔ اس علمی کام کو ڈاکٹر محمد صالح صدیقی نے “An Approach To The Quranic Sciences” کے عنوان سے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا ہے۔
(Downloads - 359)
Additional information
| Book Writer | |
|---|---|
| Language | |
| File Size | 11 MB |
Description
کتاب کا تعارف: “علوم القرآن” مفتی محمد تقی عثمانی کی ایک علمی تصنیف ہے جو ان کے والد مفتی محمد شفیع کی مشہور تفسیر “معارف القرآن” کے مقدمے پر مبنی ہے۔ یہ کتاب قرآن کی مختلف علوم و فنون کے بارے میں ایک جامع اور تحقیقی بحث پیش کرتی ہے۔ اس میں وحی کے مفہوم، قرآن کی تاریخ نزول، اس کی حفاظت، قراءاتِ سبعہ، اور قرآن کے اعجاز جیسے اہم موضوعات شامل ہیں، جو قارئین کو قرآن کے عمیق معانی اور اس کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس کتاب میں مستشرقین کے اعتراضات کا علمی جواب بھی دیا ہے، جس سے قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات کا ازالہ ہوتا ہے۔
کتاب کی خصوصیات: “علوم القرآن” نہ صرف ایک علمی ماخذ ہے بلکہ یہ قرآن کی تعلیمات کے بارے میں گہرائی سے سمجھنے کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد صالح صدیقی نے اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ “An Approach To The Quranic Sciences” کے عنوان سے کیا ہے، جس سے غیر اردو بولنے والے قارئین بھی اس کی معلومات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ کتاب طلباء، محققین، اور عام قارئین کے لیے ایک قیمتی وسائل فراہم کرتی ہے تاکہ وہ قرآن کی سچائیوں اور اس کے علوم کی گہرائی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
- طلباء: جو قرآن کی تعلیمات اور علوم میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
- محققین: جو قرآن پر تحقیق کرنے کے خواہاں ہیں اور مستند حوالوں کی تلاش میں ہیں۔
- علماء: جو قرآن کی تفسیر اور اس کے علوم کی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔
- عام قارئین: جو قرآن کی سچائیوں اور اس کی معلومات کو سمجھنے کے لیے متلاشی ہیں۔







